درود شریف / درود شریف کے فائدے اور اہمیت قرآن و سنت کے حوالے سے

تعارف

اس مضمون میں ہم بہترین اور مختصر درود شریف کے ساتھ ساتھ اس کے فوائد اور اہمیت کا بھی جائزہ لیں گے۔ آپ قرآن و حدیث کے حوالہ جات بھی دیکھ سکتے ہیں۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم

اسلام اس روئے زمین پر سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں 1.9 بلین سے زیادہ اسلام کے پیروکار ہیں اور ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ مذہب صرف مسلم اکثریتی ممالک میں ہی نہیں بلکہ یورپ جیسے غیر مسلم آبادیوں میں بھی بڑھ رہا ہے۔

اس کی وجہ مذہب کو گہرائی سے سیکھنے کی طرف لوگوں کا رجحان ہے۔ اسلام کے کئی عناصر ہیں۔ تاہم سب سے اہم قرآن ہے۔ قرآن اسلام کا مقدس صحیفہ ہے جو آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ اسلام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، قول اور فعل کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے۔ اس کے بعد اللہ کی طرف سے کوئی دوسرا رسول نہیں آئے گا۔ لہٰذا اسلام میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  کا کردار سب سے اہم ہے۔

درود شریف کیا ہے؟

مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ان مومنوں سے محبت کرتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت اور والہانہ محبت کا اظہار کریں۔ ایک طریقہ درود شریف کا ورد ہے۔ درحقیقت ایسا درود شریف پڑھنا ہر مسلمان کا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے۔

درود شریف کا وسیع تر ترجمہ ’’پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ سے کیا جاتا ہے۔ اسی کی تلاوت مسلمان کو اللہ اور اس کے رسول کے قریب لاتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر نماز کا ایک طریقہ ہے جو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پڑھنے، سننے یا بولنے پر کہیں۔ یہ وہ نعمت ہے جو مسلمان آخری نبی کو عطا کرتے ہیں۔ یہ اس کی تمام تعظیم اور تعریف مناسب اور صحیح طریقے سے کرنا ہے۔

مسلمانوں کی طرف سے درود شریف پڑھنے کی سب سے بڑی وجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی محبت کو بڑھانا ہے۔ یہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے اور اس لیے اس پر عمل کرنا نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی بہت زیادہ اجروثواب حاصل کر سکتا ہے۔

صحیح بخاری میں نقل ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا اولین فرض ہے حتیٰ کہ اپنے والد، والدہ، اولاد اور پورے خاندان سے بھی بڑھ کر۔ زیادہ تر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ درود شریف کا ورد دنیا اور آخرت میں فائدہ مند ہوگا۔

(حوالہ: صحیح البخاری 15)

درود شریف عربی میں اردو ترجمہ کے ساتھ

 آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، کہا ہم سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، کہا کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہاکہ میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں ؟ ( یعنی ایک عمدہ حدیث نہ سناؤں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لو گوں میں تشریف لائے تو ہم نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہم آپ کو سلام کس طرح کریں ، لیکن آپ پر درود ہم کس طرح بھیجیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو ۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏”‏‏.‏

اے اللہ ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ، جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔ اے اللہ ! محمد پر اور آل محمد پر بر کت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔

(حوالہ: صحیح البخاری 6357)

عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمرو بن سلیم زرقی نے بیان کیا کہ ہم کو ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏”‏‏.‏

اے اللہ ! محمد اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر اپنی رحمت نازل کر جیسا کہ تو نے ابرہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی اور محمد اور ان کی ازواج اور ان کی اولاد پر برکت نازل کر ، جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ۔ بلاشبہ تو تعریف کیا گیا شان وعظمت والا ہے ۔

(حوالہ: صحیح البخاری 6360)

درود شریف کی اہمیت

درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسلمان کے لیے درود پڑھنا کتنا ضروری ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہے جس نے مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا“۔ (حوالہ: سنن الترمذی 484)

جمعہ کے دن درود شریف سے متعلق حدیث

جمعہ کا دن عبادت کا مقدس دن ہے اور اس دن نبی پر درود بھیجنا افضل ترین اعمال میں شمار ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث ملاحظہ فرمائیں

اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی پر آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی پر ان کی وفات ہوئی، اسی پر آخری صور پھونکا جائے گا اور اسی پر چیخ و پکار ہو گی، لہٰذا اس دن مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جائے گا۔ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارا درود آپ پر پیش کیا جائے جب کہ آپ کا جسم بوسیدہ ہو؟ اس نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانے سے منع کیا ہے۔

(حوالہ: سنن ابی داؤد 1047)

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کو بارہ گھنٹے میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں ایک گھڑی ایسی بھی ہے جس میں مسلمان اللہ سے کچھ نہیں مانگتا مگر وہ اسے دیتا ہے۔ اس لیے ظہر کی نماز کے بعد آخری گھڑی میں تلاش کریں۔

(حوالہ: سنن ابی داؤد 1048)

درود شریف کے فوائد اور اس کی اہمیت

درود شریف کے فوائد: صلوات۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود شریف بھی کہا جاتا ہے، درود شریف یا درود ابراہیم ایک اسلامی تعریفی عربی آیت ہے، جس میں ہمارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام شامل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمیشہ درود بھیجے جاتے ہیں، جب بھی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کی پانچوں نمازوں کے دوران تشہد کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔

درود شریف پڑھنے کے کیا فائدے اور اہمیت ہے؟

درود ابراہیمی یقینی طور پر دنیا میں ہر جگہ تمام مسلمانوں کے لیے مفید ہے۔ ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ جب کوئی شخص اسے پڑھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے بہت زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ مزید برآں، وہ سکون میں رہے گا اور ساتھ ہی ساتھ درود شریف کے ورد سے حاصل ہونے والے فوائد سے ہمیشہ کے لیے مطمئن رہے گا۔

یہ توکل اور ایمان ہے جس کو اس بات کی اہمیت دی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے بابرکت دن یعنی جمعہ کے دن درود پڑھنا دوسرے دنوں سے افضل ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت کے بارے میں کیا بیان ہوا ہے؟


ابوہریرہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس بار درود بھیجتا ہے۔

(حوالہ: جامع ترمذی 485)

عمر بن الخطاب نے بیان کیا۔

"بے شک دعا آسمانوں اور زمین کے درمیان رک جاتی ہے، اس میں سے کوئی چیز اس وقت تک نہیں اٹھتی جب تک کہ تم اپنے نبی پر درود نہ بھیجو۔"

(حوالہ: جامع ترمذی 486)

قرآنی آیات کے ذریعے درود پڑھنے کی اہمیت

بے شک اللہ نبی پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اس پر درود و سلام مانگو۔ (قرآن، 33: 56)

مذکورہ بالا آیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ رحمٰن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی اسی طرح تعظیم کرتے ہیں۔ اس آیت سے ہم بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہایت احترام اور تقویٰ کے ساتھ درود بھیجنا چاہیے۔

برکتیں

جو شخص صبح دس بار اور شام دس بار درود شریف پڑھے گا اسے قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت حاصل ہوگی۔

دعاؤں کی قبولیت

چونکہ درود شریف دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ ہے۔ اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھیں تو اللہ ہماری تمام دعائیں قبول کرتا ہے۔

مسائل حل کریں۔

اگر کوئی کسی مشکل میں مبتلا ہو تو بے شمار تعداد میں درود شریف کا ورد کرے۔ نیز جب کسی کو غصہ آئے تو درود شریف پڑھے انشاء اللہ اس کی تمام پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔

غربت اور بھوک مٹاؤ

درود شریف پڑھنے سے غربت اور بھوک مٹ جاتی ہے۔

بھولی ہوئی چیزیں یاد رکھیں

جب آپ کوئی چیز بھول جائیں اور آپ کی یادداشت اسے یاد نہ کر سکے تو درود شریف پڑھیں، آپ کو بھولی ہوئی چیزیں یاد آجائیں گی۔

خواہشات کی تکمیل

 مزید یہ کہ جو شخص دن میں زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کی تمام دعائیں اور دعائیں قبول فرمائے گا اور اس کی تمام حاجتیں پوری کرے گا۔

اللہ رب العزت کا قرب

درود شریف پڑھنے سے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ درود پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کر رہے ہیں۔ درحقیقت ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ درود شریف پڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے جیسا کہ اللہ اور اس کے فرشتے کرتے ہیں۔

درود شریف کی عجیب و غریب برکات

حضرت احمد بن ثابت مغربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے درود شریف کی بہت سی برکتیں دیکھی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بنجر کھیت ہے اور اس میں منبر ہے۔ میں نے چڑھنا شروع کیا اور کچھ سیڑھیاں چڑھ گئیں۔ جب میں نے زمین کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ منبر ہوا میں ہے اور اوپر کی طرف اڑ رہا ہے اور زمین سے اونچا ہے۔ میں نے سوچا کہ مجھے اوپر کی سیڑھیوں پر چڑھ کر اس مقام تک پہنچنا چاہیے جہاں سے اللہ مجھے لے جائے گا، حالانکہ واپس آنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔

جب میں زیادہ اونچائی پر پہنچا اور نیچے دیکھا تو نیچے کی سیڑھیاں غائب ہو چکی تھیں، پھر میں نے دائیں بائیں دیکھا، ہر طرف ہوا تھی۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ! درود پاک کی برکت سے مجھے پرامن راستے کی طرف رہنمائی فرما۔

اس کے بعد میں نے ایک باریک دھاگہ دیکھا جو تاریکی میں اس طرح پھیلا ہوا ہے جیسے یہ پل سیرت ہے۔ میں نے یہ منظر دیکھا اور اپنے آپ سے کہا، “افسوس! آپ پل صراط پر پہنچ گئے لیکن اللہ کی رحمت اور درود پاک کے سوا آپ کے پاس کوئی فضیلت نہیں۔

اچانک میں نے ایک فرشتے کی آواز سنی کہ اے احمد! اگر آپ پل سیرت کو عبور کریں گے تو آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نظر آئیں گے۔ میں خوش ہو گیا اور درود پاک کے حوالے سے دعا مانگی۔ میں نے دیکھا کہ نور کا ایک بادل نمودار ہوا اور اس نے مجھے پل سیرت کو عبور کرنے میں مدد دی اور مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دائیں طرف، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بائیں طرف، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پیچھے ہیں اور شیر سامنے بیٹھا ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ضامن بنو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارا ضامن ہوں اور تم ایمان کی حالت میں مرو گے۔ میں نے دعا کی درخواست کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: تم پر درود شریف کی کثرت کی پابندی ہے اور کھیل سے بچو۔ پھر میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف توجہ کی اور ان سے دعا کی درخواست کی۔ شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میرے کندھے کو پکڑ کر جھٹکا دیا اور میں اس جھٹکے کے اثر سے بیدار ہو گیا اور کچھ دیر کے لیے میرے کندھے میں درد ہوا۔

پھر میں نے سوچا کہ وہ ‘لیہ’ کیا ہے؟ اس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ رشتہ داروں کا جھگڑا تھا جس میں میں ملوث تھا اور اس طرح ایک سال تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے محروم رہا۔ پھر میں نے اللہ سے توبہ کی اور درود پاک کے حوالے سے درخواست کی کہ مجھے اپنے حبیب کا دیدار نصیب فرما۔

میں نے دوسری بار خواب کی دنیا میں دیکھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوں، ایک فرشتے نے کہا کہ تو نے دنیا کی فضول باتوں اور جھگڑوں میں کیوں پڑ گئے اور میں عرض کرتا رہا کہ اے اللہ! (میں مانگتا ہوں) تیری رحمت، اے اللہ! (میں مانگتا ہوں) تیری مہربانی، اے اللہ! (میں مانگتا ہوں) آپ کی برکتیں۔ لیکن (فرشتہ کی) آواز برقرار تھی۔ میں یہ سوچ کر ڈرتا ہوں کہ میں جہنمی ہوں لیکن اچانک مجھے یاد آیا کہ میں جہنمی کیسے ہو سکتا ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے ضامن ہیں۔ چنانچہ میں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ اے اللہ! میں تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پاک پڑھتا ہوں اور وہ میرے ضامن ہیں، جب میں نے یہ کہا تو میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاضر پایا اور فرما رہے تھے کہ میں احسان کرنے والا ہوں، میں بندہ ہوں، میں بندہ ہوں۔ حوالہ دینے والا آدمی۔” پھر میں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا وہ (میں) جہنمی ہے؟ اللہ نے فرمایا نہیں وہ جہنم سے امن میں ہے۔ اور میں اٹھا۔

مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ ہمیں برکت دے گا اور قیامت کے دن ہمیں بدنام نہیں کرے گا۔

(حوالہ: سعادت الدارین جلد 1 صفحہ نمبر 109)

خلاصہ

درود شریف اللہ تعالیٰ سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں اور رحمتیں نازل کرنے کی دعا مانگنے کے لیے پڑھا جاتا ہے تاکہ دین اسلام کے لیے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمات کے لیے تعظیم اور شکر گزاری کا اظہار کیا جاسکے۔ اس سے نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا حق پورا ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا اور آخرت میں بہت سے انعامات اور انعامات بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود شریف پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور احترام کا اظہار کر سکیں۔ آمین

درود شریف کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

درود شریف کی کیا اہمیت ہے؟

اللہ تعالی کا قرب: درود شریف پڑھنے سے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ درود پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کر رہے ہیں۔ درحقیقت ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ درود شریف پڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے جیسا کہ اللہ اور اس کے فرشتے کرتے ہیں۔

درود شریف کیسے پڑھیں؟

اللہ رحمت نازل فرما محمد اور آل محمد پر جس طرح تو نے ابراہیم اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائی۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔

درود شریف کب پڑھنا چاہیے؟

درود شریف کے فوائد حاصل کرنے کے لیے آپ کوئی بھی درود اور کسی بھی دن کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ بہرحال سب سے بہتر درود ابراہیمی ہے اور سب سے افضل دن جمعہ ہے۔ جب بھی کوئی شخص جمعہ کے دن درود شریف پڑھے گا تو اس کا دن بابرکت اور معجزات سے بھر جائے گا۔

درود شریف پڑھنے سے کیا ہوتا ہے؟

ہر بار درود پڑھنے والے پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ یہ گناہوں کا کفارہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ درود شریف پڑھنے والے کے دس درجے بلند ہوتے ہیں، دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

درود ابراہیمی کا کیا فائدہ ہے؟

درود ابراہیمی کے فوائد۔ لامحدود فوائد ہیں جیسے درود ابراہیمی ایک شخص کو بہت ساری برکتیں حاصل کرنے اور اللہ کے قریب ہونے میں مدد کرتا ہے۔ فجر کی نماز کے بعد اگر کوئی شخص اسے پڑھے تو آپ کی دعا کے قبول ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔ ہر نماز کے بعد درود ابراہیمی پڑھنے کی کوشش کریں۔

(Visited 559 times, 1 visits today)

2 thoughts on “درود شریف / درود شریف کے فائدے اور اہمیت قرآن و سنت کے حوالے سے”

Leave a Comment